اسی لیے میں مخاطب ہوں اس زمانے سے
By amir-masoodFebruary 5, 2024
اسی لیے میں مخاطب ہوں اس زمانے سے
سخن کی ریت چلی ہے مرے گھرانے سے
خرید لائے ہو چادر نمازیں چھوٹی ہیں
بھلا ملے گا خدا کیا اسے چڑھانے سے
گناہ کرنا ہے مجھ کو حلال رزق سے اب
مجھے شراب ہے پینی شراب خانے سے
وہی ہے آگ جو تم نے لگائی تھی دل میں
بھلا وہ کیسے بجھے گی مرے بجھانے سے
نماز پڑھ کے میں آیا شراب لائی جائے
ثواب ملتا ہے پیاسے کو مے پلانے سے
سخن کی ریت چلی ہے مرے گھرانے سے
خرید لائے ہو چادر نمازیں چھوٹی ہیں
بھلا ملے گا خدا کیا اسے چڑھانے سے
گناہ کرنا ہے مجھ کو حلال رزق سے اب
مجھے شراب ہے پینی شراب خانے سے
وہی ہے آگ جو تم نے لگائی تھی دل میں
بھلا وہ کیسے بجھے گی مرے بجھانے سے
نماز پڑھ کے میں آیا شراب لائی جائے
ثواب ملتا ہے پیاسے کو مے پلانے سے
34513 viewsghazal • Urdu