اتنا نہ کر کسی کو شناسا اکھیڑ سے
By azwar-shiraziFebruary 26, 2024
اتنا نہ کر کسی کو شناسا اکھیڑ سے
کچھ لوگ اب بھی شہر میں رہتے ہیں پیڑ سے
تجھ غم نے بچپنے میں ضعیفی نواز دی
ورنہ جوانی آتی ہے پہلے ادھیڑ سے
آزاد گھومنے دے چراگاہ زیست میں
کر توسن خیال کو زخمی نہ ایڑ سے
کار رفو گری کی نہ زحمت اٹھائیے
زخموں کا بن گیا ہے تعلق ادھیڑ سے
زنجیر پا نے قید کیا یوں دماغ کو
پھیلاؤ کا خیال نہ آیا سکیڑ سے
دل کی شکستگی نے بتایا جہان کو
بچتا نہیں ہے کوئی بھی شیشہ تریڑ سے
وہ سانپ آستین میں رہتا تو ٹھیک تھا
لپٹا ہوا ہے جو مرے چندن کے پیڑ سے
پھنستا ہے جلد شعبدہ بازوں کے جال میں
جو پہلی بار شہر میں آیا ہو کھیڑ سے
وہ شخص گر خلاف ہے میرے تو کیا ہوا
پڑتا نہیں ہے فرق مجھے ایک ڈیڑھ سے
اپنی انا کے ہاتھ سے ہوتا رہا خجل
جب تک کہ جان چھوٹ نہ پائی کھکھیڑ سے
جذبات میں نہ آؤ کہ غارت نہ ہو کہیں
جتنا بھی تم نے کام لیا ہے کھدیڑ سے
کچھ لوگ اب بھی شہر میں رہتے ہیں پیڑ سے
تجھ غم نے بچپنے میں ضعیفی نواز دی
ورنہ جوانی آتی ہے پہلے ادھیڑ سے
آزاد گھومنے دے چراگاہ زیست میں
کر توسن خیال کو زخمی نہ ایڑ سے
کار رفو گری کی نہ زحمت اٹھائیے
زخموں کا بن گیا ہے تعلق ادھیڑ سے
زنجیر پا نے قید کیا یوں دماغ کو
پھیلاؤ کا خیال نہ آیا سکیڑ سے
دل کی شکستگی نے بتایا جہان کو
بچتا نہیں ہے کوئی بھی شیشہ تریڑ سے
وہ سانپ آستین میں رہتا تو ٹھیک تھا
لپٹا ہوا ہے جو مرے چندن کے پیڑ سے
پھنستا ہے جلد شعبدہ بازوں کے جال میں
جو پہلی بار شہر میں آیا ہو کھیڑ سے
وہ شخص گر خلاف ہے میرے تو کیا ہوا
پڑتا نہیں ہے فرق مجھے ایک ڈیڑھ سے
اپنی انا کے ہاتھ سے ہوتا رہا خجل
جب تک کہ جان چھوٹ نہ پائی کھکھیڑ سے
جذبات میں نہ آؤ کہ غارت نہ ہو کہیں
جتنا بھی تم نے کام لیا ہے کھدیڑ سے
10972 viewsghazal • Urdu