جانے کیا کچھ سوچ لیا نادانی میں

By asim-qamarFebruary 25, 2024
جانے کیا کچھ سوچ لیا نادانی میں
اور پھر عرصہ بیت گیا حیرانی میں
چھونے بھر سے روح چمکنے لگتی تھی
شاید نور بسا تھا اس پیشانی میں


ہوش اور خواب نے اپنی اپنی کوشش کی
بندہ ٹوٹ گیا اس کھینچا تانی میں
اک لڑکی کا جسم چڑھا تھا ڈولی پر
اک لڑکے کا جسم گرا تھا پانی میں


مجھ میں اور زیادہ اندر مت آؤ
ایک آسیب کا گھر ہے اس ویرانی میں
چاہے سب کچھ دیکھے پھر بھی جاتے وقت
ٹیس بچی رہ جاتی ہے سیلانی میں


12060 viewsghazalUrdu