جب سے ہم نے بازوؤں میں زور پیدا کر لیا
By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
جب سے ہم نے بازوؤں میں زور پیدا کر لیا
جسم و جاں کی خامشی میں شور پیدا کر لیا
روح میں چمکے عجب کچھ رنگ اس برسات میں
ہم نے بھی جنگل میں اپنا مور پیدا کر لیا
ہو گیا تھا جمع آنکھوں میں بہت خوابوں کا مال
چشم تر کی شکل میں اک چور پیدا کر لیا
جنگلوں کو کاٹ کر کیسا غضب ہم نے کیا
شہر جیسا ایک آدم خور پیدا کر لیا
مطلع جاں ہر گھڑی رہتا ہے ابرآلود شعر
ہم نے یہ بادل عجب گھنگھور پیدا کر لیا
ایک کھڑکی سی کھلی رکھی ہے دنیا کی طرف
اک بڑا دروازہ اپنی اور پیدا کر لیا
ہم رہے احساسؔ جی کے حلقۂ تدریس میں
اپنے شعروں میں بلا کا زور پیدا کر لیا
جسم و جاں کی خامشی میں شور پیدا کر لیا
روح میں چمکے عجب کچھ رنگ اس برسات میں
ہم نے بھی جنگل میں اپنا مور پیدا کر لیا
ہو گیا تھا جمع آنکھوں میں بہت خوابوں کا مال
چشم تر کی شکل میں اک چور پیدا کر لیا
جنگلوں کو کاٹ کر کیسا غضب ہم نے کیا
شہر جیسا ایک آدم خور پیدا کر لیا
مطلع جاں ہر گھڑی رہتا ہے ابرآلود شعر
ہم نے یہ بادل عجب گھنگھور پیدا کر لیا
ایک کھڑکی سی کھلی رکھی ہے دنیا کی طرف
اک بڑا دروازہ اپنی اور پیدا کر لیا
ہم رہے احساسؔ جی کے حلقۂ تدریس میں
اپنے شعروں میں بلا کا زور پیدا کر لیا
66514 viewsghazal • Urdu