جب تلک خاک میں ملا نہ دیا
By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
جب تلک خاک میں ملا نہ دیا
اس نے اپنا کوئی پتہ نہ دیا
اور پھر اڑنے والے لوگوں نے
چلنے والوں کو راستہ نہ دیا
خاک ہوتا نہ میں تو کیا کرتا
تیری چوکھٹ نے راستہ نہ دیا
یاد میں نے نہیں کیا خود کو
اس نے جب تک مجھے بھلا نہ دیا
جیب خالی تھی اور خالی رہی
میں نے دنیا سے کچھ لیا نہ دیا
دم لرزتا رہا لبوں پہ مرے
دھیان اس نے مگر ذرا نہ دیا
مٹی سب چاک میں لگا دی مری
کوزہ گر نے معاوضہ نہ دیا
اس نے اپنا کوئی پتہ نہ دیا
اور پھر اڑنے والے لوگوں نے
چلنے والوں کو راستہ نہ دیا
خاک ہوتا نہ میں تو کیا کرتا
تیری چوکھٹ نے راستہ نہ دیا
یاد میں نے نہیں کیا خود کو
اس نے جب تک مجھے بھلا نہ دیا
جیب خالی تھی اور خالی رہی
میں نے دنیا سے کچھ لیا نہ دیا
دم لرزتا رہا لبوں پہ مرے
دھیان اس نے مگر ذرا نہ دیا
مٹی سب چاک میں لگا دی مری
کوزہ گر نے معاوضہ نہ دیا
58134 viewsghazal • Urdu