جب اس کی طرف سے کوئی پتھر نہیں آتا

By haris-bilalFebruary 6, 2024
جب اس کی طرف سے کوئی پتھر نہیں آتا
جو بوجھ مرے دل پہ ہے مجھ پر نہیں آتا
دریا ہوں اور اک عمر سے بہنے میں لگا ہوں
لیکن مرے حصے میں سمندر نہیں آتا


تم لوٹ کے آئے بھی تو اس دل میں کہ جس میں
گزرا ہوا موسم بھی پلٹ کر نہیں آتا
ہاتھوں کی لکیریں کہیں لے کر نہیں جاتیں
الجھے ہوئے رستوں میں کبھی گھر نہیں آتا


یعنی ترے ہوتے ہی وہ تعمیر ہوا ہے
رستہ کوئی اس شہر سے باہر نہیں آتا
اس دل سے الگ تو نہیں اس آنکھ کا ہونا
کیا شاخ سے پھل گر کے زمیں پر نہیں آتا


اک خواب حقیقت میں بدلتا نہیں حارثؔ
اک درد ترے ہجر کے اندر نہیں آتا
79072 viewsghazalUrdu