جب وہ کھڑکی سے جھانکتا ہوگا

By farooq-noorFebruary 6, 2024
جب وہ کھڑکی سے جھانکتا ہوگا
چاند بادل میں چھپ گیا ہوگا
پھول آنگن میں کھل اٹھے ہوں گے
مور شاخوں پہ بولتا ہوگا


دیکھ کے زلف عنبری اس کی
ابر کیسا برس پڑا ہوگا
اس کی رنگت نے سارے کمرے کو
نور ہی نور کر دیا ہوگا


خوشبوئیں آپ بچھ گئی ہوں گی
اس کا بستر لگا دیا ہوگا
نیند آنکھوں پہ چھا گئی ہوگی
اور بدن سارا ٹوٹتا ہوگا


استراحت کی سرحدوں سے پرے
اب وہ غفلت میں سو رہا ہوگا
رات رانی مہک اٹھی ہوگی
جب وہ کروٹ بدل رہا ہوگا


چھیڑتی ہوگی اب نسیم سحر
اب وہ خوابوں سے جاگتا ہوگا
اپنا چہرہ نہارنے کے لئے
وہ مقابل بہ آئنہ ہوگا


دیکھ کر حسن بے بہا اپنا
خود ہی شرماتا جھینپتا ہوگا
جھڑتے ہوں گے گلاب ہونٹوں سے
جب کسی سے وہ بولتا ہوگا


پھول راہوں میں بچھ گئے ہوں گے
اب وہ گھر سے نکل رہا ہوگا
اور خراماں خراماں رکھ کے قدم
میرے گھر کی طرف بڑھا ہوگا


دل اچانک دھڑک اٹھا ہے مرا
اب وہ نکڑ تک آ گیا ہوگا
اور نکڑ پہ میرے گھر کا پتہ
میرے دشمن سے پوچھتا ہوگا


کوئی جائے کہ اس کو لے آئے
وہ پریشان ہو رہا ہوگا
اس کی پہچان میں بتاتا ہوں
حسن ہی حسن سر تا پا ہوگا


وہ ہے جان بہار جان نورؔ
نام تو آپ نے سنا ہوگا
49236 viewsghazalUrdu