جینے لگتا ہے زندگی کے بغیر
By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
جینے لگتا ہے زندگی کے بغیر
کوئی مرتا نہیں کسی کے بغیر
شاعری درد زندگی کے بغیر
جیسے امت کوئی نبی کے بغیر
وہ دیے بھی ہوا نے دیکھ لیے
جل رہے تھے جو روشنی کے بغیر
ہم تری آرزو کے دفتر میں
کام کرتے ہیں سیلری کے بغیر
کتنی باتیں ہیں جن کو دیوانے
کہہ نہیں سکتے خامشی کے بغیر
جی رہا ہوں میں ہجر میں ایسے
جیسے چنگیز خاں خودی کے بغیر
ہم سے سیکھو کہ اپنی مرضی سے
کیسے مرتے ہیں خود کشی کے بغیر
پھر مرے ذہن میں کئی جنات
رقص کرنے لگے پری کے بغیر
کوئی مرتا نہیں کسی کے بغیر
شاعری درد زندگی کے بغیر
جیسے امت کوئی نبی کے بغیر
وہ دیے بھی ہوا نے دیکھ لیے
جل رہے تھے جو روشنی کے بغیر
ہم تری آرزو کے دفتر میں
کام کرتے ہیں سیلری کے بغیر
کتنی باتیں ہیں جن کو دیوانے
کہہ نہیں سکتے خامشی کے بغیر
جی رہا ہوں میں ہجر میں ایسے
جیسے چنگیز خاں خودی کے بغیر
ہم سے سیکھو کہ اپنی مرضی سے
کیسے مرتے ہیں خود کشی کے بغیر
پھر مرے ذہن میں کئی جنات
رقص کرنے لگے پری کے بغیر
11185 viewsghazal • Urdu