جنہیں ہم یاد کر کے رو رہے ہیں

By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
جنہیں ہم یاد کر کے رو رہے ہیں
انہیں مردوں کا ورثہ ڈھو رہے ہیں
وہ کھینچے جا رہا ہے اپنی جانب
ہم اپنی حد سے باہر ہو رہے ہیں


ہمیں قسطوں میں مرنا پڑ رہا ہے
وہ قسطوں میں پرائے ہو رہے ہیں
متاع زندگی کی پیٹھ پر ہم
تمہاری بے رخی بھی ڈھو رہے ہیں


بڑا الٹا زمانہ آ گیا ہے
محبت کرنے والے سو رہے ہیں
خدا کا شکر ہے غم پر ہمارے
جو خوش ہوتے تھے وہ بھی رو رہے ہیں


ہم اپنے صحن کے گملوں میں اب تک
تمہاری مسکراہٹ بو رہے ہیں
96337 viewsghazalUrdu