جنہیں عروج ہمارا گراں گزرتا ہے

By aalam-nizamiJanuary 18, 2024
جنہیں عروج ہمارا گراں گزرتا ہے
سکوں سے ان کا کوئی دن کہاں گزرتا ہے
وہ چھوڑ جاتا ہے فتنوں کے درمیاں ہم کو
ہمارے شہر سے جب بھی فلاں گزرتا ہے


مسرتوں کے یہ موسم بھی اس طرح گزرے
کسی مکان سے جیسے دھواں گزرتا ہے
اگر شریک سفر ہو مزاج سے واقف
تو زندگی کا سفر کامراں گزرتا ہے


بھٹکنے والے مسافر کی رہبری کے لئے
غبار اڑاتا ہوا کارواں گزرتا ہے
جبیں پہ سجدے کی حسرت مچلنے لگتی ہے
نمازیوں پہ جو وقت اذاں گزرتا ہے


اسی کی ذات پہ کرتا ہے رشک یہ عالمؔ
جو چھوڑ کر کوئی دل کش نشاں گزرتا ہے
94139 viewsghazalUrdu