جسے اپنا سمجھتے تھے وہی اپنا نہیں نکلا

By devesh-dixitFebruary 5, 2024
جسے اپنا سمجھتے تھے وہی اپنا نہیں نکلا
یہی دل سے ہمارے عمر بھر کانٹا نہیں نکلا
بہت نزدیک سے خود غرض دنیا دیکھ لی ہم نے
جسے جیسا سمجھتے تھے وہی ویسا نہیں نکلا


وہ دھوکا تھا نظر کا ہم جسے سونا سمجھتے تھے
پرکھنے پہ وہ سونا کیا کھرا کانسا نہیں نکلا
زبانیں سخت ہیں جن کی وہ دل کے صاف ہوتے ہیں
کوئی بھی شخص میٹھا آج تک اچھا نہیں نکلا


67917 viewsghazalUrdu