جسم سے روح تک اترتی ہوئی

By farooq-noorFebruary 6, 2024
جسم سے روح تک اترتی ہوئی
ایک خوشبو تھی وہ بکھرتی ہوئی
جیسے طوفان کوئی ٹھہرا ہوا
جیسے آفت کوئی گزرتی ہوئی


اس کی پیشانی جیسے چڑھتی دھوپ
زلف اس کی تھی چھاؤں کرتی ہوئی
اس کے ابرو کوئی گھنا جنگل
اور پلک تھی اڑان بھرتی ہوئی


اس کا چہرہ تھا پھول کھلتا ہوا
آنکھ گویا تھی بات کرتی ہوئی
زلف اس کی سیاہ شب کی طرح
صبح عارض پہ شام کرتی ہوئی


اس کے دندان موتیوں جیسے
اس کی بولی دلوں کو ہرتی ہوئی
اس کے لب تھے چھلکتے پیمانے
اس کی گردن صراحی بھرتی ہوئی


اس کی آواز اک ندی کی طرح
دل کے ویرانے سے گزرتی ہوئی
اس کا سینہ کشادہ اک میداں
اس پہ چٹان وہ ابھرتی ہوئی


اس کمر کی لچک کو کیا کہئے
جیسے ہرنی کوئی گزرتی ہوئی
اور مغرور مورنی کی طرح
دو قدم چلتی اور ٹھہرتی ہوئی


اس کی آنکھوں کی یاد ہے چتون
سہمی سہمی ہوئی سی ڈرتی ہوئی
یوں سنورتی تھی آئنے کے قریب
جیسے تقدیر ہو سنورتی ہوئی


میرے کمرے میں اب بھی ہے موجود
ایک تصویر بات کرتی ہوئی
27629 viewsghazalUrdu