جتنے دریا ہیں سمندر کی طرف کھلتے ہیں
By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
جتنے دریا ہیں سمندر کی طرف کھلتے ہیں
ہم بھی دریا ہیں پر اندر کی طرف کھلتے ہیں
حجرۂ زخم سے باہر کی کوئی راہ نہیں
کچھ دریچہ ہیں جو اندر کی طرف کھلتے ہیں
شاخ دنیا پہ بس اک پھول ہے چہرہ اس کا
دل بھی اکثر اسی منظر کی طرف کھلتے ہیں
سارے صحراؤں پہ دروازہ ہے تنہائی مری
سارے ویرانے مرے گھر کی طرف کھلتے ہیں
خون کی دھار کو معلوم ہے منزل اپنی
سب گلے اپنے ہی خنجر کی طرف کھلتے ہیں
سب کی مٹی میں ہیں کچھ راستے اندر اندر
جو کہیں دور سمندر کی طرف کھلتے ہیں
ہم بھی دریا ہیں پر اندر کی طرف کھلتے ہیں
حجرۂ زخم سے باہر کی کوئی راہ نہیں
کچھ دریچہ ہیں جو اندر کی طرف کھلتے ہیں
شاخ دنیا پہ بس اک پھول ہے چہرہ اس کا
دل بھی اکثر اسی منظر کی طرف کھلتے ہیں
سارے صحراؤں پہ دروازہ ہے تنہائی مری
سارے ویرانے مرے گھر کی طرف کھلتے ہیں
خون کی دھار کو معلوم ہے منزل اپنی
سب گلے اپنے ہی خنجر کی طرف کھلتے ہیں
سب کی مٹی میں ہیں کچھ راستے اندر اندر
جو کہیں دور سمندر کی طرف کھلتے ہیں
76977 viewsghazal • Urdu