جو لکھا ہے وہی پڑھا ہے ابھی
By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
جو لکھا ہے وہی پڑھا ہے ابھی
اس کا پہلا ہی خط ملا ہے ابھی
کھا رہا ہے ابھی ترس مجھ پر
عشق اندھا نہیں ہوا ہے ابھی
بیٹھ جاتا ہوں اس کے در پہ کہیں
کوئی درجہ نہیں ملا ہے ابھی
میر و غالب کی زیر نگرانی
عشق پر کام چل رہا ہے ابھی
لفظ دل تک ابھی نہیں پہنچے
وہ نگاہوں سے سوچتا ہے ابھی
جیسے تیسے کسی پہ مرتا ہوں
زندگی نے جکڑ رکھا ہے ابھی
عشق ابھی جان تک نہیں پہنچا
خون سے کام چل رہا ہے ابھی
اس کا پہلا ہی خط ملا ہے ابھی
کھا رہا ہے ابھی ترس مجھ پر
عشق اندھا نہیں ہوا ہے ابھی
بیٹھ جاتا ہوں اس کے در پہ کہیں
کوئی درجہ نہیں ملا ہے ابھی
میر و غالب کی زیر نگرانی
عشق پر کام چل رہا ہے ابھی
لفظ دل تک ابھی نہیں پہنچے
وہ نگاہوں سے سوچتا ہے ابھی
جیسے تیسے کسی پہ مرتا ہوں
زندگی نے جکڑ رکھا ہے ابھی
عشق ابھی جان تک نہیں پہنچا
خون سے کام چل رہا ہے ابھی
39823 viewsghazal • Urdu