نظر کے سامنے گزرے ہوئے زمانے ہیں
By wasim-nadirJanuary 5, 2024
نظر کے سامنے گزرے ہوئے زمانے ہیں
نئی رتیں ہیں مگر پھول سب پرانے ہیں
تمہارے ساتھ ٹھہر جاؤں اس جگہ کیسے
مجھے تو اور کئی راستے بنانے ہیں
جو رشتہ ٹوٹ گئے ان کو بھی نبھانا ہے
ہمیں تو سوکھے ہوئے پھول بھی سجانے ہیں
فقیر کب سے کھڑا ہے یہی بتانے کو
کھنڈر میں دفن ابھی اور بھی خزانے ہیں
کہاں سے لائیں وہ دکھ درد بانٹنے والے
یہاں تو چاروں طرف صرف کارخانے ہیں
نئی رتیں ہیں مگر پھول سب پرانے ہیں
تمہارے ساتھ ٹھہر جاؤں اس جگہ کیسے
مجھے تو اور کئی راستے بنانے ہیں
جو رشتہ ٹوٹ گئے ان کو بھی نبھانا ہے
ہمیں تو سوکھے ہوئے پھول بھی سجانے ہیں
فقیر کب سے کھڑا ہے یہی بتانے کو
کھنڈر میں دفن ابھی اور بھی خزانے ہیں
کہاں سے لائیں وہ دکھ درد بانٹنے والے
یہاں تو چاروں طرف صرف کارخانے ہیں
94144 viewsghazal • Urdu