جڑاؤ اتنا بھی آساں نہیں وفاؤں سے
By anaam-damohiFebruary 5, 2024
جڑاؤ اتنا بھی آساں نہیں وفاؤں سے
الجھنا پڑتا ہے دنیا کے دیوتاؤں سے
کچھ اس طرح بھی لپٹتے ہیں درد و غم مجھ سے
کہ جیسے بچہ لپٹتے ہیں اپنی ماؤں سے
فراق یار میں مجھ کو قضا تو آنی تھی
چراغ بچتا کہاں تک بھلا ہواؤں سے
بچا سکی نہ مریض وفا کو چارہ گری
طبیب کہتے تھے بچ جائے گا دواؤں سے
چلا گیا ہے وہ صحرا سے اپنے گھر کی طرف
پلٹ کے آ گیا انعامؔ بھی خلاؤں سے
الجھنا پڑتا ہے دنیا کے دیوتاؤں سے
کچھ اس طرح بھی لپٹتے ہیں درد و غم مجھ سے
کہ جیسے بچہ لپٹتے ہیں اپنی ماؤں سے
فراق یار میں مجھ کو قضا تو آنی تھی
چراغ بچتا کہاں تک بھلا ہواؤں سے
بچا سکی نہ مریض وفا کو چارہ گری
طبیب کہتے تھے بچ جائے گا دواؤں سے
چلا گیا ہے وہ صحرا سے اپنے گھر کی طرف
پلٹ کے آ گیا انعامؔ بھی خلاؤں سے
10736 viewsghazal • Urdu