جنوں کے ہاتھ سے خوار و خجل نہیں ہوتا
By azwar-shiraziFebruary 26, 2024
جنوں کے ہاتھ سے خوار و خجل نہیں ہوتا
جو اپنے آپ میں اتنا مخل نہیں ہوتا
کبھی کبھی نکل آتا ہوں اپنے آپ سے میں
کبھی کبھی مرے سینے میں دل نہیں ہوتا
غموں نے کی ہے سلیقے سے تربیت میری
میں بات بات پہ اب مشتعل نہیں ہوتا
تجھے ملی ہے پذیرائی تو غرور نہ کر
کسی کا نام و نشاں مستقل نہیں ہوتا
جو ہر مہینے اترتا ہے میرے لوگوں پر
عذاب ہوتا ہے بجلی کا بل نہیں ہوتا
کسی کسی پہ عنایت خدا کی ہوتی ہے
ہر اک حسین کے ہونٹوں پہ تل نہیں ہوتا
زمیں پہ بیٹھ کے کرتا ہوں گریہ و زاری
یہی سبب ہے کہ بے آب و گل نہیں ہوتا
یہ اور بات کہ برداشت کر لیا میں نے
وگرنہ کون سا غم جاں گسل نہیں ہوتا
بہت ٹھکانے ہیں اس شخص کے مگر پھر بھی
وہ میرے دل سے کہیں منتقل نہیں ہوتا
خوشا وہ آنکھ جو نم سے چمکتی رہتی ہے
خوشا وہ دل کہ جو پتھر کی سل نہیں ہوتا
جگر کے گھاؤ کو چارہ گری سے کیا مطلب
یہ زخم وہ ہے کہ جو مندمل نہیں ہوتا
وہی تو ہوتا ہے کچھ کر گزرنے کا لمحہ
میں اپنے آپ سے جب متصل نہیں ہوتا
جو اپنے آپ میں اتنا مخل نہیں ہوتا
کبھی کبھی نکل آتا ہوں اپنے آپ سے میں
کبھی کبھی مرے سینے میں دل نہیں ہوتا
غموں نے کی ہے سلیقے سے تربیت میری
میں بات بات پہ اب مشتعل نہیں ہوتا
تجھے ملی ہے پذیرائی تو غرور نہ کر
کسی کا نام و نشاں مستقل نہیں ہوتا
جو ہر مہینے اترتا ہے میرے لوگوں پر
عذاب ہوتا ہے بجلی کا بل نہیں ہوتا
کسی کسی پہ عنایت خدا کی ہوتی ہے
ہر اک حسین کے ہونٹوں پہ تل نہیں ہوتا
زمیں پہ بیٹھ کے کرتا ہوں گریہ و زاری
یہی سبب ہے کہ بے آب و گل نہیں ہوتا
یہ اور بات کہ برداشت کر لیا میں نے
وگرنہ کون سا غم جاں گسل نہیں ہوتا
بہت ٹھکانے ہیں اس شخص کے مگر پھر بھی
وہ میرے دل سے کہیں منتقل نہیں ہوتا
خوشا وہ آنکھ جو نم سے چمکتی رہتی ہے
خوشا وہ دل کہ جو پتھر کی سل نہیں ہوتا
جگر کے گھاؤ کو چارہ گری سے کیا مطلب
یہ زخم وہ ہے کہ جو مندمل نہیں ہوتا
وہی تو ہوتا ہے کچھ کر گزرنے کا لمحہ
میں اپنے آپ سے جب متصل نہیں ہوتا
23998 viewsghazal • Urdu