جنوں سے عمر کی طرف سرک رہا ہوں آج کل

By ananth-faaniFebruary 25, 2024
جنوں سے عمر کی طرف سرک رہا ہوں آج کل
قدم بڑھانے سے بھی پہلے تھک رہا ہوں آج کل
گھسیٹ لاؤ مجھ کو گھر سے اور کام پر لگاؤ
ذرا ذرا سی بات پر بھڑک رہا ہوں آج کل


قفس سے سچ میں عشق ہی نہ ہو رہا ہو اے خدا
سمجھ نہ آئے اتنا کیوں چہک رہا ہوں آج کل
نشانہ یار خاص ہے نہیں تمہارا اس لئے
تمام جسم دل بنا دھڑک رہا ہوں آج کل


دکان جو چلانی ہے سخن کی کیا کروں اننتؔ
غزل کا نام دے کے کچھ بھی بک رہا ہوں آج کل
69114 viewsghazalUrdu