کبھی شفق تو کبھی گل کبھی جناں مہکے
By aalam-nizamiJanuary 18, 2024
کبھی شفق تو کبھی گل کبھی جناں مہکے
تمہارے نقش قدم بھی کہاں کہاں مہکے
کوئی امین صداقت ادھر سے گزرا ہے
قدم قدم پہ جو یوں راہ امتحاں مہکے
یہ کس کے نام کی خوشبو ہے میرے شعروں میں
نفس نفس ہے معطر مشام جاں مہکے
چمن بدوش وہ آئے مرے تصور میں
مرے خیال و معانی کا کل جہاں مہکے
یہ کس نے رخت سفر باندھنے کی ٹھانی ہے
زمین وجد میں ہے اور آسماں مہکے
جنہوں نے راہ صداقت میں اپنی جانیں دیں
پڑھو جو داستاں ان کی تو داستاں مہکے
تمہارے نقش قدم بھی کہاں کہاں مہکے
کوئی امین صداقت ادھر سے گزرا ہے
قدم قدم پہ جو یوں راہ امتحاں مہکے
یہ کس کے نام کی خوشبو ہے میرے شعروں میں
نفس نفس ہے معطر مشام جاں مہکے
چمن بدوش وہ آئے مرے تصور میں
مرے خیال و معانی کا کل جہاں مہکے
یہ کس نے رخت سفر باندھنے کی ٹھانی ہے
زمین وجد میں ہے اور آسماں مہکے
جنہوں نے راہ صداقت میں اپنی جانیں دیں
پڑھو جو داستاں ان کی تو داستاں مہکے
55501 viewsghazal • Urdu