کبھی تھے ہم سفر راہ محبت میں خدا اور ہم
By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
کبھی تھے ہم سفر راہ محبت میں خدا اور ہم
خدا اب آسماں پر ہے زمیں پر ہیں ہوا اور ہم
غزل اس نے مکمل ہی نہ ہونے دی کہ مدت سے
بس اک شعر اور اس کے نام کا اک قافیہ اور ہم
اب اتنی شرم ہے تجھ کو جو کھل کر بات کرنے سے
کریں گے رات بھر باتیں ترے بند قبا اور ہم
محبت چھوڑ کر تم جاؤ دنیا کے مزے لوٹو
سمجھ لیں گے بس آپس میں محبت کی بلا اور ہم
وہی زخمی بدن ہے اور وہی ٹوٹا ہوا دل ہے
وہی اس کی گلی اور عاشقی کی ابتدا اور ہم
اسے رونق دکھائیں ہم بھی اپنی بے وفائی کی
کسی محفل میں مل جائیں اگر وہ بے وفا اور ہم
سب اپنے روبرو ہیں گفتگو کرتا نہیں کوئی
تمہارا آئنہ اور تم ہمارا آئنہ اور ہم
ہمارے مے کدے میں آخر شب کا سماں دیکھو
نماز فجر ہے اور ہیں نشے میں دھت خدا اور ہم
خدا اب آسماں پر ہے زمیں پر ہیں ہوا اور ہم
غزل اس نے مکمل ہی نہ ہونے دی کہ مدت سے
بس اک شعر اور اس کے نام کا اک قافیہ اور ہم
اب اتنی شرم ہے تجھ کو جو کھل کر بات کرنے سے
کریں گے رات بھر باتیں ترے بند قبا اور ہم
محبت چھوڑ کر تم جاؤ دنیا کے مزے لوٹو
سمجھ لیں گے بس آپس میں محبت کی بلا اور ہم
وہی زخمی بدن ہے اور وہی ٹوٹا ہوا دل ہے
وہی اس کی گلی اور عاشقی کی ابتدا اور ہم
اسے رونق دکھائیں ہم بھی اپنی بے وفائی کی
کسی محفل میں مل جائیں اگر وہ بے وفا اور ہم
سب اپنے روبرو ہیں گفتگو کرتا نہیں کوئی
تمہارا آئنہ اور تم ہمارا آئنہ اور ہم
ہمارے مے کدے میں آخر شب کا سماں دیکھو
نماز فجر ہے اور ہیں نشے میں دھت خدا اور ہم
72592 viewsghazal • Urdu