کہیں دیوار مثال اور کہیں در جیسا تھا

By haris-bilalFebruary 6, 2024
کہیں دیوار مثال اور کہیں در جیسا تھا
تیری باہوں کا وہ حلقہ مجھے گھر جیسا تھا
ایک خدشہ تھا جو یاروں کو ملا دیتا تھا
ایک احساس کسی راہ گزر جیسا تھا


دور جاتا تھا تو بڑھتی تھی مری بینائی
وہ جو اک شخص مری حد نظر جیسا تھا
زندگی میں ترے ہم راہ گزارا ہوا وقت
کوئی پودا تھا جو صحرا میں شجر جیسا تھا


اس کے دم سے مرے اپنوں کا بھرم قائم تھا
میرا اک عیب زمانے میں ہنر جیسا تھا
جیسے طوفان کا امکان سمندر میں رہے
میرے دل میں ترا ہونا کسی ڈر جیسا تھا


52105 viewsghazalUrdu