کہنی ہے کوئی بات تو مجھ سے کہا کریں

By ahmad-ayazFebruary 24, 2025
کہنی ہے کوئی بات تو مجھ سے کہا کریں
ہر عام و تام سے نہ مرا تذکرہ کریں
کہتی ہے شب نوردی کہ تنہا گزاریں رات
تنہائی کہہ رہی ہے چلو رابطہ کریں


باشندگان شہر ہیں پہلے سے بد گمان
رائی کو دھن کے اور نہ پربت کھڑا کریں
بہروپیوں کے شہر میں کھویا ہے میرا دوست
مردم شناس جو بھی ہیں چل کر پتہ کریں


زندان اشتیاق میں جس نے گزاری ہے
آنکھوں کو اس کے چوم لیں پنچھی رہا کریں
بیٹھا ہے ایک وحشی پرندہ جو پیڑ پر
وہ چاہتا ہے روح کو تن سے جدا کریں


ہم کو اداسیوں سے پرے اور بھی ہیں کام
کیوں کر درون ذات سے ہر دم لڑا کریں
96751 viewsghazalUrdu