کیسے انسان ہیں ہم ریڑھ کی ہڈی کے بغیر
By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
کیسے انسان ہیں ہم ریڑھ کی ہڈی کے بغیر
لئے پھرتی ہیں ہوائیں ہمیں مرضی کے بغیر
ٹھیک آتا نہیں مجھ پر کوئی دنیا کا لباس
آسماں والے مری ناپ کے درزی کے بغیر
کوئی عطار دوا ہی نہیں دیتا ہم کو
اے طبیب مرض جاں تری پرچی کے بغیر
میں وہی ہوں کہ بنا بیٹھا ہوں کہسار وجود
تو نے بھیجا تھا جسے ذرۂ ہستی کے بغیر
ساحل عشق سے آگے نہیں جانے کا بدن
پار کرنا ہے یہ دریا تمہیں کشتی کے بغیر
مجھ پہ کھلتا ہی نہیں حسن مرے ہونے کا
اپنے آئینے سے اک عکس کی چوری کے بغیر
حق بھی باطل سا نظر آتا ہے اس محفل میں
کبھی نا وقت چلا جاؤں جو مستی کے بغیر
نہ رہا دشت تو جینا مرا نا ممکن ہے
زندہ رہنا کوئی مشکل نہیں بستی کے بغیر
ظلم تیرا ترا اک طرز محبت بھی تو تھا
خوش رہوں کیسے بھلا میں تری سختی کے بغیر
فرحت احساسؔ کوئی یوں ہی نہیں ہو جاتا
ارض تنہائی میں اس تخت نشینی کے بغیر
لئے پھرتی ہیں ہوائیں ہمیں مرضی کے بغیر
ٹھیک آتا نہیں مجھ پر کوئی دنیا کا لباس
آسماں والے مری ناپ کے درزی کے بغیر
کوئی عطار دوا ہی نہیں دیتا ہم کو
اے طبیب مرض جاں تری پرچی کے بغیر
میں وہی ہوں کہ بنا بیٹھا ہوں کہسار وجود
تو نے بھیجا تھا جسے ذرۂ ہستی کے بغیر
ساحل عشق سے آگے نہیں جانے کا بدن
پار کرنا ہے یہ دریا تمہیں کشتی کے بغیر
مجھ پہ کھلتا ہی نہیں حسن مرے ہونے کا
اپنے آئینے سے اک عکس کی چوری کے بغیر
حق بھی باطل سا نظر آتا ہے اس محفل میں
کبھی نا وقت چلا جاؤں جو مستی کے بغیر
نہ رہا دشت تو جینا مرا نا ممکن ہے
زندہ رہنا کوئی مشکل نہیں بستی کے بغیر
ظلم تیرا ترا اک طرز محبت بھی تو تھا
خوش رہوں کیسے بھلا میں تری سختی کے بغیر
فرحت احساسؔ کوئی یوں ہی نہیں ہو جاتا
ارض تنہائی میں اس تخت نشینی کے بغیر
59710 viewsghazal • Urdu