کیسے تیور ہیں اب ہوا کے دیکھ
By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
کیسے تیور ہیں اب ہوا کے دیکھ
گھر سے پہلے دیا جلا کے دیکھ
اس کے خط میں کوئی دلاسہ ڈھونڈ
کوئی جملہ گھٹا بڑھا کے دیکھ
شہر میں خاک تو ملے گی نہیں
کوئی افواہ ہی اڑا کے دیکھ
ان کا دیوان کچھ تو کام آئے
حال دل میرؔ کو سنا کے دیکھ
اس کی محفل میں جائے روتا ہوا
نامہ بر کو سکھا پڑھا کے دیکھ
گر مرا رقص دیکھنا ہے تو
کچھ مرے کان میں بتا کے دیکھ
اس کی خوشبو کہیں گئی تو نہیں
گھر کے پردہ ہلا ہلا کے دیکھ
آئنے رحم دل بھی ہوتے ہیں
شرط یہ ہے کہ سر جھکا کے دیکھ
ہنستے ہیں یا اداس ہوتے ہیں
پاس والوں کو دور جا کے دیکھ
گھر سے پہلے دیا جلا کے دیکھ
اس کے خط میں کوئی دلاسہ ڈھونڈ
کوئی جملہ گھٹا بڑھا کے دیکھ
شہر میں خاک تو ملے گی نہیں
کوئی افواہ ہی اڑا کے دیکھ
ان کا دیوان کچھ تو کام آئے
حال دل میرؔ کو سنا کے دیکھ
اس کی محفل میں جائے روتا ہوا
نامہ بر کو سکھا پڑھا کے دیکھ
گر مرا رقص دیکھنا ہے تو
کچھ مرے کان میں بتا کے دیکھ
اس کی خوشبو کہیں گئی تو نہیں
گھر کے پردہ ہلا ہلا کے دیکھ
آئنے رحم دل بھی ہوتے ہیں
شرط یہ ہے کہ سر جھکا کے دیکھ
ہنستے ہیں یا اداس ہوتے ہیں
پاس والوں کو دور جا کے دیکھ
92988 viewsghazal • Urdu