کل خود مجھے رسوا سر بازار کرو گے

By basheer-ahmad-basheerJanuary 19, 2024
کل خود مجھے رسوا سر بازار کرو گے
تم صبح سے پہلے مرا انکار کرو گے
خیر اب تو ہوئے مسخ روایت کے کھرے دام
کیا کل بھی یہی جھوٹ کا بیوپار کرو گے


طوفان تو امڈا چلا آتا ہے سروں پر
پھر شہر کو کس لمحے خبردار کرو گے
آخر کو تو مٹی ہیں یہ مٹی کے گھروندے
تعمیر کہاں تک در و دیوار کرو گے


لو گے نہ خبر دل کے خرابے کی مگر ہاں
زیبائش ہر کوچہ و بازار کرو گے
میں اب تو کھٹکتا ہوں مگر دور نہیں وقت
باتیں مری پرکھو گے مجھے پیار کرو گے


ہے اپنے لیے شہر بشیرؔ اپنا یہی دشت
کیا جا کے بھلا شہر مرے یار کرو گے
59253 viewsghazalUrdu