کر رہے ہیں دوا خیال کئی

By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
کر رہے ہیں دوا خیال کئی
تیرے بیمار کے ہیں حال کئی
آہٹیں دستکیں پرانے خط
ہجر میں ہوتے ہیں وبال کئی


صرف آنکھوں کے اک اشارے سے
پوچھ لیتا ہے وہ سوال کئی
خوب جھک جھک ہوئی مچھیروں میں
ایک مچھلی تھی اور جال کئی


سیکھ لو چال قابو میں رکھنا
راستے میں پڑیں گے ڈھال کئی
اس کی چوکھٹ سے اس کے قدموں تک
پہنچنے میں لگے ہیں سال کئی


روح کے دشت سے لگا لائی
زندگی جان کو وبال کئی
دیکھ کر چل عروج کی جانب
گھات میں بیٹھے ہیں زوال کئی


77652 viewsghazalUrdu