کرب ہے سوز ہے گرانی ہے
By ahmad-ayazFebruary 24, 2025
کرب ہے سوز ہے گرانی ہے
حسب معمول زندگانی ہے
دن تو کاٹا ہے جیسے تیسے ابھی
رات سے خودکشی ہٹانی ہے
آبلے یوں نہیں ہیں آنکھوں میں
خوب صحرا کی خاک چھانی ہے
دوست ہوتے تو سب خبر رکھتے
پوچھتے کیا ہو کیا کہانی ہے
مسکرانے پہ چوٹ لگتی ہے
اور یہ چوٹ بھی چھپانی ہے
اپنے ماضی سے دور جانے کو
حال سے جنگ ہم نے ٹھانی ہے
حسب معمول زندگانی ہے
دن تو کاٹا ہے جیسے تیسے ابھی
رات سے خودکشی ہٹانی ہے
آبلے یوں نہیں ہیں آنکھوں میں
خوب صحرا کی خاک چھانی ہے
دوست ہوتے تو سب خبر رکھتے
پوچھتے کیا ہو کیا کہانی ہے
مسکرانے پہ چوٹ لگتی ہے
اور یہ چوٹ بھی چھپانی ہے
اپنے ماضی سے دور جانے کو
حال سے جنگ ہم نے ٹھانی ہے
72508 viewsghazal • Urdu