کشاکشی کو جو تیار بھی نہیں رہتے

By haris-bilalFebruary 6, 2024
کشاکشی کو جو تیار بھی نہیں رہتے
جہاں میں ایسوں کے آثار بھی نہیں رہتے
وہ خوش ہے جس کو کشادہ دلی میسر ہے
کہ تنگ راستے ہموار بھی نہیں رہتے


زمیں سے کٹ کے فلک ہر کسی کا ہوتا گیا
بچھڑنے والوں کے معیار بھی نہیں رہتے
جو کام پہلے پہل ممکنات میں بھی نہ ہوں
سمے کے ساتھ وہ دشوار بھی نہیں رہتے


زیادہ دور عدو بھی نہیں ہوئے مجھ سے
بہت قریب مرے یار بھی نہیں رہتے
جہاں پہ اپنے ہی رہنے نہ دیں وہاں حارثؔ
بہ وجہ طعنۂ اغیار بھی نہیں رہتے


75357 viewsghazalUrdu