خاک کے زخم کو پانی سے رفو کرتے ہیں

By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
خاک کے زخم کو پانی سے رفو کرتے ہیں
دیکھ ہم کتنی روانی سے رفو کرتے ہیں
کبھی کرتے ہیں رفو خون کی اک دھار سے ہم
اور کبھی اشک فشانی سے رفو کرتے ہیں


کثرت خواب سے پھٹ جاتی ہیں اکثر آنکھیں
ہم ان آنکھوں کو کہانی سے رفو کرتے ہیں
دیر تک ایک جگہ رہنے سے آ جاتے ہیں زخم
تو انہیں نقل مکانی سے رفو کرتے ہیں


ہم وہ بد بخت مہاجر ہیں کہ ہجرت کے شگاف
مستقل ہجرت ثانی سے رفو کرتے ہیں
سنگ احساس ادھر آ کہ رلا کر تجھ کو
ترا پتھر ترے پانی سے رفو کرتے ہیں


47379 viewsghazalUrdu