خاک صحراؤں میں اڑانے کا
By farooq-noorFebruary 6, 2024
خاک صحراؤں میں اڑانے کا
کیا عجب شوق ہے دوانے کا
ایک لا منتہائی رشتہ ہے
تیری زلفوں سے میرے شانے کا
پا لیا ہے کسی طرح جو اسے
خوف رہنے لگا گنوانے کا
کیا بھگتنا پڑا ہے خمیازہ
اس خرابے سے دل لگانے کا
آنکھ پتھر ہوئی ہے رستوں پر
انتظار اور تیرے آنے کا
اب بہانہ تلاش کرتا ہوں
تیری صورت کو بھول جانے کا
نورؔ انسان شاہکار ہوا
قدرت حق کے کارخانے کا
کیا عجب شوق ہے دوانے کا
ایک لا منتہائی رشتہ ہے
تیری زلفوں سے میرے شانے کا
پا لیا ہے کسی طرح جو اسے
خوف رہنے لگا گنوانے کا
کیا بھگتنا پڑا ہے خمیازہ
اس خرابے سے دل لگانے کا
آنکھ پتھر ہوئی ہے رستوں پر
انتظار اور تیرے آنے کا
اب بہانہ تلاش کرتا ہوں
تیری صورت کو بھول جانے کا
نورؔ انسان شاہکار ہوا
قدرت حق کے کارخانے کا
92004 viewsghazal • Urdu