خلل آیا نہ حقیقت میں نہ افسانہ بنا
By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
خلل آیا نہ حقیقت میں نہ افسانہ بنا
میں تو لگتا ہے کہ بے کار ہی دیوانہ بنا
مار ہی ڈالا تھا ساحل کے مرض نے مجھ کو
ایک سیلاب اچانک ہی شفا خانہ بنا
جیسے پرچھائیں بنائی گئی ہر جسم کے ساتھ
اسی انداز سے ہر شہر کا ویرانہ بنا
مسجد جسم جسے کوئی نمازی نہ ملا
وہیں اک شام مری روح کا مے خانہ بنا
فرحت احساسؔ سے آتی تھی صدائے گریہ
آخر کار وہ دنیا کا عزا خانہ بنا
میں تو لگتا ہے کہ بے کار ہی دیوانہ بنا
مار ہی ڈالا تھا ساحل کے مرض نے مجھ کو
ایک سیلاب اچانک ہی شفا خانہ بنا
جیسے پرچھائیں بنائی گئی ہر جسم کے ساتھ
اسی انداز سے ہر شہر کا ویرانہ بنا
مسجد جسم جسے کوئی نمازی نہ ملا
وہیں اک شام مری روح کا مے خانہ بنا
فرحت احساسؔ سے آتی تھی صدائے گریہ
آخر کار وہ دنیا کا عزا خانہ بنا
82276 viewsghazal • Urdu