خوف منجدھار سے جو کھاتا ہے

By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
خوف منجدھار سے جو کھاتا ہے
وہ کنارے پہ ڈوب جاتا ہے
تیر اس زاویہ سے آتا ہے
شک مرا دوستوں پہ جاتا ہے


میں نے بیساکھیاں جسے دی تھیں
وہ مجھے دوڑنا سکھاتا ہے
سانپ کی کینچلی کو لہرا کر
تو سپیروں کو کیا ڈراتا ہے


درد بیواؤں کا وہ کیا جانے
جو ہری چوڑیاں بناتا ہے
پاؤں اس کے بھی نرم ہوتے ہیں
جو تری پالکی اٹھاتا ہے


چھین لیتی ہے بال و پر قدرت
مور جب رقص بھول جاتا ہے
اک فرشتہ اڑان سے پہلے
تیرے کوچے سے کچھ اٹھاتا ہے


33703 viewsghazalUrdu