خلاف تھا نہ زمانہ نہ وقت ایسا تھا

By ahmad-azeemFebruary 5, 2024
خلاف تھا نہ زمانہ نہ وقت ایسا تھا
جو سوچیے تو یہی ہے نا بخت ایسا تھا
بہار رت میں بھی شاخوں کے ہاتھ خالی تھے
کھلے نہ پھول کہ موسم ہی سخت ایسا تھا


دئے ہیں زخم کچھ ایسے کہ بھر سکیں نہ کبھی
یہ اور بات کہ وہ گل بدست ایسا تھا
شعاع مہر ہی آئی نہ چاندنی اتری
میں کیا کہوں کہ مرے دل کا دشت ایسا تھا


فضائے شام کی رنگین کر گیا ہے قبا
غروب مہر گلابوں کے طشت ایسا تھا
کوئی چراغ دریچوں پہ رکھ کے کیا کرتا
ہر ایک سمت ہواؤں کا گشت ایسا تھا


وہ چاندنی تو نہ تھی چاندنی کے ٹکڑے تھے
کہ ماہتاب مرا لخت لخت ایسا تھا
کسی سفر میں بھی بوجھل ہوئے نہ میرے قدم
کہیں بھی بیٹھ گیا ساز و رخت ایسا تھا


پلٹ کے آئے نہ پھر کاروان اہل وفا
محبتوں کی مسافت کا دشت ایسا تھا
امان بانٹ رہا تھا مسافروں میں عظیمؔ
گھنیری چھاؤں لٹاتا درخت ایسا تھا


60759 viewsghazalUrdu