خود ساختہ سزا کو جو ہم چن لیے گئے

By hina-ambareenFebruary 6, 2024
خود ساختہ سزا کو جو ہم چن لیے گئے
حسرت کے جال چاروں طرف بن لیے گئے
پھر یہ بتا کہ دعوائے صرف نظر تھا کیا
سینوں کے راز تک بھی اگر سن لیے گئے


نکلا نہ کوئی حل بھی محبت کے جرم کا
اک ایک کر کے جتنے تھے سر دھن لیے گئے
طوفاں میں غرق ہو گیا جب شہر سب کا سب
تب جا کے صرف ہوش کے ناخن لیے گئے


گدلی پڑی ہے پھر بھی کوئی جھیل ظرف کی
ذرات گرچہ ریت کے سب پن لیے گئے
رچ بس گیا تھا ذہن میں احساس ہجر کا
لیکن خیال شعر کے خوش کن لیے گئے


جسموں کے میل دھل گئے دل کے نہ دھل سکے
جتنے بھی بیش قیمتی صابن لیے گئے
23507 viewsghazalUrdu