خوں میں ڈوبی ہوئی لاشوں کی طرف کیا دیکھوں
By irfan-aazmiFebruary 6, 2024
خوں میں ڈوبی ہوئی لاشوں کی طرف کیا دیکھوں
سنگ باری کے ٹھکانوں کی طرف کیا دیکھوں
تیرے کردار پہ مرکوز ہیں میری نظریں
میں ترے گھر کے خزانوں کی طرف کیا دیکھوں
کھینچ لائی ہے ضرورت سر بازار مجھے
جیب خالی ہے دکانوں کی طرف کیا دیکھوں
شہر گنجان میں آباد نہیں دل کوئی
اینٹ پتھر کے مکانوں کی طرف کیا دیکھوں
غیبتیں کرنے سے بہتر ہے کہ خاموش رہوں
کسی دیوار کے کانوں کی طرف کیا دیکھوں
بوند بن بن کے سر راہ بکھر جائیں گی
ابر کی اونچی چٹانوں کی طرف کیا دیکھوں
اب تو ہر پھول سے بارود کی بو آتی ہے
شاخ کے تیر کمانوں کی طرف کیا دیکھوں
بے زمیں ہونے کا احساس دلاتا ہے لہو
بے زمیں ہوں تو کسانوں کی طرف کیا دیکھوں
لن ترانی کے سوا کچھ نہ ملے گا عرفانؔ
گاؤں کے اونچے گھرانوں کی طرف کیا دیکھوں
سنگ باری کے ٹھکانوں کی طرف کیا دیکھوں
تیرے کردار پہ مرکوز ہیں میری نظریں
میں ترے گھر کے خزانوں کی طرف کیا دیکھوں
کھینچ لائی ہے ضرورت سر بازار مجھے
جیب خالی ہے دکانوں کی طرف کیا دیکھوں
شہر گنجان میں آباد نہیں دل کوئی
اینٹ پتھر کے مکانوں کی طرف کیا دیکھوں
غیبتیں کرنے سے بہتر ہے کہ خاموش رہوں
کسی دیوار کے کانوں کی طرف کیا دیکھوں
بوند بن بن کے سر راہ بکھر جائیں گی
ابر کی اونچی چٹانوں کی طرف کیا دیکھوں
اب تو ہر پھول سے بارود کی بو آتی ہے
شاخ کے تیر کمانوں کی طرف کیا دیکھوں
بے زمیں ہونے کا احساس دلاتا ہے لہو
بے زمیں ہوں تو کسانوں کی طرف کیا دیکھوں
لن ترانی کے سوا کچھ نہ ملے گا عرفانؔ
گاؤں کے اونچے گھرانوں کی طرف کیا دیکھوں
40091 viewsghazal • Urdu