خواب کے بیج انہیں بونے کی اجازت نہیں ہے
By ananth-faaniFebruary 25, 2024
خواب کے بیج انہیں بونے کی اجازت نہیں ہے
ہیں کچھ آنکھیں جنہیں سونے کی اجازت نہیں ہے
ہے پریشان جو دنیا سے غزل گوئی کرے
کسی کو بیٹھ کے رونے کی اجازت نہیں ہے
کوئی شہر آ کے لپیٹے میں ہمیں لے لے گا
دشت ہیں ہم ہمیں ہونے کی اجازت نہیں ہے
ہم کو تو بھول بھلیے میں سہولت ہے مگر
ان کی سوچو جنہیں کھونے کی اجازت نہیں ہے
کیوں نہ فانیؔ بھی کرے نظم نگاری کا جتن
کیا اسے موتی پرونے کی اجازت نہیں ہے
ہیں کچھ آنکھیں جنہیں سونے کی اجازت نہیں ہے
ہے پریشان جو دنیا سے غزل گوئی کرے
کسی کو بیٹھ کے رونے کی اجازت نہیں ہے
کوئی شہر آ کے لپیٹے میں ہمیں لے لے گا
دشت ہیں ہم ہمیں ہونے کی اجازت نہیں ہے
ہم کو تو بھول بھلیے میں سہولت ہے مگر
ان کی سوچو جنہیں کھونے کی اجازت نہیں ہے
کیوں نہ فانیؔ بھی کرے نظم نگاری کا جتن
کیا اسے موتی پرونے کی اجازت نہیں ہے
38829 viewsghazal • Urdu