کسی کو کیسے دکھاؤں میں اپنی رات کے کھیل
By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
کسی کو کیسے دکھاؤں میں اپنی رات کے کھیل
جو میری ذات میں ہوتے ہیں کائنات کے کھیل
گناہ اتنے بڑھائے کہ پل ہی توڑ دیا
پل صراط سے کھیلے پل صراط کے کھیل
کھلاڑی ہم ہیں مگر کھیلتا ہے اور کوئی
ہمارے ہاتھ میں کب ہیں ہمارے ہات کے کھیل
ہم اس بساط پہ الٹی طرف سے بیٹھے ہیں
ہمارے ہاتھ میں آئے ہیں سارے مات کے کھیل
ہم اپنے خوں کی روانی میں شعر لکھتے ہیں
ادھر وہ کھیل رہے ہیں قلم دوات کے کھیل
بدن بچاؤ کہ اب کے بدن کی باری ہے
کہ روح کھیل چکی اپنے سب نجات کے کھیل
یہ لوگ موت سے اتنے ڈرے ہوئے ہیں کہ بس
کوئی سکھائے کہاں تک انہیں حیات کے کھیل
جو میری ذات میں ہوتے ہیں کائنات کے کھیل
گناہ اتنے بڑھائے کہ پل ہی توڑ دیا
پل صراط سے کھیلے پل صراط کے کھیل
کھلاڑی ہم ہیں مگر کھیلتا ہے اور کوئی
ہمارے ہاتھ میں کب ہیں ہمارے ہات کے کھیل
ہم اس بساط پہ الٹی طرف سے بیٹھے ہیں
ہمارے ہاتھ میں آئے ہیں سارے مات کے کھیل
ہم اپنے خوں کی روانی میں شعر لکھتے ہیں
ادھر وہ کھیل رہے ہیں قلم دوات کے کھیل
بدن بچاؤ کہ اب کے بدن کی باری ہے
کہ روح کھیل چکی اپنے سب نجات کے کھیل
یہ لوگ موت سے اتنے ڈرے ہوئے ہیں کہ بس
کوئی سکھائے کہاں تک انہیں حیات کے کھیل
52943 viewsghazal • Urdu