کسی مقام سے گزرے نہیں پھسلتا ہے

By aalam-nizamiJanuary 18, 2024
کسی مقام سے گزرے نہیں پھسلتا ہے
جو حق پرستوں کے نقش قدم پہ چلتا ہے
سنا ہے کرنے لگا ہے وہ روشنی تقسیم
مرے چراغ سے جس کا چراغ جلتا ہے


فضائے زیست پہ چھائی ہوئی ہے تاریکی
بہت دنوں سے یہ منظر نہیں بدلتا ہے
بساط اتنی کہاں ہے جو چھیڑیں سورج کو
ان آندھیوں کا دیوں پر ہی زور چلتا ہے


تمہارے ظلم پہ چپ ہوں یہ ظرف ہے میرا
ابلنے کو تو مرا بھی لہو ابلتا ہے
ہمیں نہ کیجئے مجبور ہجرتوں کے لئے
درخت اپنا ٹھکانہ نہیں بدلتا ہے


خدا ہی حامی و ناصر ہے اس کا اے عالمؔ
جو کھا کے بارہا ٹھوکر نہیں سنبھلتا ہے
31581 viewsghazalUrdu