کتنا حسین خواب تھا آنکھوں میں رہ گیا

By ankit-mauryaFebruary 5, 2024
کتنا حسین خواب تھا آنکھوں میں رہ گیا
وہ چہرہ ماہتاب تھا آنکھوں میں رہ گیا
میں جیسے کوئی خار تھا چبھنے لگا اسے
وہ تو کوئی گلاب تھا آنکھوں میں رہ گیا


میں نے تو تیری مرضی سے بولا تھا جھوٹ پر
جو اصل میں جواب تھا آنکھوں میں رہ گیا
لوٹا دئے ہیں اس نے مرے خط وغیرہ سب
باقی کا جو حساب تھا آنکھوں میں رہ گیا


اچھا تھا جو بھی فلم میں یوں ہی گزر گیا
وہ سین جو خراب تھا آنکھوں میں رہ گیا
85336 viewsghazalUrdu