کوئی دروازے پہ بیٹھا نہیں دیکھا جاتا
By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
کوئی دروازے پہ بیٹھا نہیں دیکھا جاتا
کیا ترے شہر میں رستہ نہیں دیکھا جاتا
اوب جاتے ہیں تماشے سے تماشائی سب
پھر بھی گرتا ہوا پردہ نہیں دیکھا جاتا
یاد آ جاتا ہے آکاش سے رشتہ اپنا
گھر کا ٹوٹا ہوا زینہ نہیں دیکھا جاتا
دستکیں دینے کو یہ ہاتھ تڑپ اٹھتے ہیں
اس کے دروازے پہ تالا نہیں دیکھا جاتا
وہ سفر صرف جنازے کا سفر ہوتا ہے
جس میں اپنا یا پرایا نہیں دیکھا جاتا
آنکھ ہر شخص کو تصویر کا املا بولے
ایک ہی شخص کو اتنا نہیں دیکھا جاتا
جو بھی دل میں ہے وہ کاغذ پہ بنا دو یارو
آج کے دور میں چہرہ نہیں دیکھا جاتا
کیا ترے شہر میں رستہ نہیں دیکھا جاتا
اوب جاتے ہیں تماشے سے تماشائی سب
پھر بھی گرتا ہوا پردہ نہیں دیکھا جاتا
یاد آ جاتا ہے آکاش سے رشتہ اپنا
گھر کا ٹوٹا ہوا زینہ نہیں دیکھا جاتا
دستکیں دینے کو یہ ہاتھ تڑپ اٹھتے ہیں
اس کے دروازے پہ تالا نہیں دیکھا جاتا
وہ سفر صرف جنازے کا سفر ہوتا ہے
جس میں اپنا یا پرایا نہیں دیکھا جاتا
آنکھ ہر شخص کو تصویر کا املا بولے
ایک ہی شخص کو اتنا نہیں دیکھا جاتا
جو بھی دل میں ہے وہ کاغذ پہ بنا دو یارو
آج کے دور میں چہرہ نہیں دیکھا جاتا
21353 viewsghazal • Urdu