کوئی دکاں نہ خریدار دیکھ سکتا ہوں

By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
کوئی دکاں نہ خریدار دیکھ سکتا ہوں
میں صرف دور سے بازار دیکھ سکتا ہوں
کہاں سے آتے ہیں کردار دیکھ سکتا ہوں
میں اب کہانی کے اس پار دیکھ سکتا ہوں


ابھی تو دور ہے آنکھوں سے پیاس کا پردہ
ابھی میں پانی میں دستار دیکھ سکتا ہوں
کسی نگاہ میں اقرار ہے زمیں والا
میں اب ستاروں کے اس پار دیکھ سکتا ہوں


ترے نقاب سے خیر اتنی تو سہولت ہے
میں تیری سمت لگاتار دیکھ سکتا ہوں
لگا کے رکھتا ہوں بیساکھیوں میں آئینے
میں اپنے خوابوں کی رفتار دیکھ سکتا ہوں


حکیم خطرے سے باہر بتا رہے ہیں مجھے
تو کیا میں آج کا اخبار دیکھ سکتا ہوں
پڑا ہوں آپ کی چوکھٹ پہ اس لیے کہ یہیں
میں اپنی طاقت دیدار دیکھ سکتا ہوں


87423 viewsghazalUrdu