کوئی نگاہ پریشاں مری تلاش میں ہے
By bhagwan-khilnani-saqiFebruary 26, 2024
کوئی نگاہ پریشاں مری تلاش میں ہے
غم حیات کا ساماں مری تلاش میں ہے
میں اپنے آپ پہ شیدا ہوا ہوں جس دن سے
تبھی سے حسن نگاراں مری تلاش میں ہے
مجھے تو واسطہ کوئی نہیں ہے دنیا سے
نہ جانے پھر بھی کیوں انساں مری تلاش میں ہے
جو اپنے آپ کو اب تک تلاش کر نہ سکا
سنا ہے میں نے وہ ناداں مری تلاش میں ہے
کسی حسیں نے سنائی ہے جب سے میری غزل
تبھی سے محفل یاراں مری تلاش میں ہے
مریض عشق ہوں اور حسن ہے دوا میری
مرے ہی درد کا درماں مری تلاش میں ہے
غم حیات کا ساماں مری تلاش میں ہے
میں اپنے آپ پہ شیدا ہوا ہوں جس دن سے
تبھی سے حسن نگاراں مری تلاش میں ہے
مجھے تو واسطہ کوئی نہیں ہے دنیا سے
نہ جانے پھر بھی کیوں انساں مری تلاش میں ہے
جو اپنے آپ کو اب تک تلاش کر نہ سکا
سنا ہے میں نے وہ ناداں مری تلاش میں ہے
کسی حسیں نے سنائی ہے جب سے میری غزل
تبھی سے محفل یاراں مری تلاش میں ہے
مریض عشق ہوں اور حسن ہے دوا میری
مرے ہی درد کا درماں مری تلاش میں ہے
93916 viewsghazal • Urdu