کوئی تتلی نہیں بتاتی ہے
By fahmi-badayuniFebruary 5, 2024
کوئی تتلی نہیں بتاتی ہے
تیری خوشبو کہاں سے آتی ہے
کیا ہوا دھوپ اگر ستاتی ہے
چاندنی بھی یہی بناتی ہے
ایک بیمار آرزو دل میں
روز بن ٹھن کے بیٹھ جاتی ہے
یہ محبت کا مے کدہ ہے یہاں
پیاس ہی پیاس کو بجھاتی ہے
اب نہیں چونکتا ہوں میں گھر میں
سارے پردے ہوا ہلاتی ہے
میرے کمرے میں اب بجائے میرے
تیری تصویر مسکراتی ہے
شکوۂ ہجر پر وہ یہ بولے
عید روزوں کے بعد آتی ہے
ضبط سے پیٹ جب نہیں بھرتا
تو غریبی اصول کھاتی ہے
اس مکاں کا چراغ ہوں فہمیؔ
جس کی جھاڑو ہوا لگاتی ہے
تیری خوشبو کہاں سے آتی ہے
کیا ہوا دھوپ اگر ستاتی ہے
چاندنی بھی یہی بناتی ہے
ایک بیمار آرزو دل میں
روز بن ٹھن کے بیٹھ جاتی ہے
یہ محبت کا مے کدہ ہے یہاں
پیاس ہی پیاس کو بجھاتی ہے
اب نہیں چونکتا ہوں میں گھر میں
سارے پردے ہوا ہلاتی ہے
میرے کمرے میں اب بجائے میرے
تیری تصویر مسکراتی ہے
شکوۂ ہجر پر وہ یہ بولے
عید روزوں کے بعد آتی ہے
ضبط سے پیٹ جب نہیں بھرتا
تو غریبی اصول کھاتی ہے
اس مکاں کا چراغ ہوں فہمیؔ
جس کی جھاڑو ہوا لگاتی ہے
54324 viewsghazal • Urdu