کچھ بھی نہ کہنا کچھ بھی نہ سننا لفظ میں لفظ اترنے دینا

By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
کچھ بھی نہ کہنا کچھ بھی نہ سننا لفظ میں لفظ اترنے دینا
مٹی کا یہ پیالہ اپنے آب حیات سے بھرنے دینا
میں بھی محض اک جسم نہیں ہوں تم بھی محض اک روح نہیں ہو
جسم و روح کے عکس کو ان کے آئینے میں اترنے دینا


اپنے جسم کے آئینے سے ہر خاکی چلمن کو ہٹا کر
سامنے بیٹھے رہنا میرے روح کو میری سنورنے دینا
صرف ہوائے محبت ہوں میں آؤں گا اور گزر جاؤں گا
بس اتنا کرنا مجھ کو اپنے اندر سے گزرنے دینا


اور کسی ساحل پر جا کر ابھروں گا ایک اور بدن میں
مٹی چھوڑ رہا ہوں میں مجھ کو دریا میں اترنے دینا
تیز ہوائے تغافل ہو تم میں ہوں گرد و غبار محبت
خوب مزہ آئے گا مجھ کو سامنے اپنے بکھرنے دینا


اس احساسؔ کو مت الجھانا کسی بھی بحث فنا و بقا میں
جینا چاہے تو جینے دینا مرنا چاہے تو مرنے دینا
29621 viewsghazalUrdu