کیا سچ مچ آپ میرے پاس آنا چاہتے ہیں

By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
کیا سچ مچ آپ میرے پاس آنا چاہتے ہیں
یا صرف میرے دل کو دہلانا چاہتے ہیں
ساری حقیقتوں کی شمعوں کی لو کتر دو
اب لوگ روشنی کا افسانہ چاہتے ہیں


آغوش وصل اب بھی کتنی روایتی ہے
شادی شدہ بدن بھی شرمانا چاہتے ہیں
سب مسجدیں گرا کر سب مندروں کو ڈھا کر
ہم اک شراب خانہ بنوانا چاہتے ہیں


بھر جائیں سب پرانے زخموں سے کوئی کہہ دے
کتنے بہت سے تازہ زخم آنا چاہتے ہیں
ہم کتنا چاہتے ہیں اب تجھ سے کیا بتائیں
چوبیس گھنٹے ہر پل روزانہ چاہتے ہیں


پانی کا بلبلہ بھی کہتے ہیں آپ اس کو
پھر آپ اس بدن کو کیوں پانا چاہتے ہیں
احساس فرحتؔ اب ہیں کل تھے جو فرحت احساسؔ
دیوان اپنا الٹا چھپوانا چاہتے ہیں


16422 viewsghazalUrdu