کیوں توڑ دئے جاتے ہیں ثمر کمزور شجر کی ڈالیوں سے

By hina-ambareenFebruary 6, 2024
کیوں توڑ دئے جاتے ہیں ثمر کمزور شجر کی ڈالیوں سے
میکے سے بھی دل کٹ جاتا ہے ملتا بھی نہیں سسرالیوں سے
آنکھوں میں اتر آتی تھی نمی ہم مخلص تھے پر لوگ نہیں
جذبات سنبھل نہیں پاتے تھے منہ بھر جاتا تھا گالیوں سے


اک کچی عمر کی لڑکی کے کچھ خواب تھے کچھ آشائیں تھیں
اور عشق تھا اس کے بچپن کا اس باغ میں رہنے والیوں سے
آنکھوں میں لجا کا سرمہ تھا گالوں پہ حیا کی لالی تھی
ماتھے پہ سفیدی چاندی کی کانوں کی سندرتا بالیوں سے


عزت کا کچومر بنتا ہے مٹی میں ملاتی ہے غربت
پیسے کے پجاری جھکتے ہیں کرتے ہیں سواگت تالیوں سے
عشاق ازل کی قسمت میں لکھی ہے سراسر بیزاری
کیا انس کسی بت خانے سے کیا نسبت ان کی گالیوں سے


دل لگتی بات کہیں تو یہ اچھا جو لگے وہ اچھا ہے
ہوتے ہیں مبرا عشق کے سالک گوریوں سے اور کالیوں سے
ٹھکرائے ہوؤں کے آقا ہیں تڑپائے ہوؤں کے مرہم ہیں
کبھی آ کے تسلی خواب میں دیں کبھی جھانکیں سنہری جالیوں سے


30856 viewsghazalUrdu