لو ڈوب گیا فرش عزا دیدۂ نم سے

By azwar-shiraziFebruary 26, 2024
لو ڈوب گیا فرش عزا دیدۂ نم سے
اب کوئی نہ گریے کا تقاضا کرے ہم سے
کھٹکا ہے کہ سیلاب جنوں خیز کے ہاتھوں
گر جائے کہیں جسم کی دیوار نہ دھم سے


شہ کو مرے انکار سے معلوم ہوا ہے
ہر اک کو خریدا نہیں جا سکتا رقم سے
ہم لوگ بھی کیا سادہ ہیں تسکین کی خاطر
امید لگا لیتے ہیں پتھر کے صنم سے


افسوس کہ مقتل میں تہہ تیغ و تبر ہے
ماں باپ نے پالا تھا جسے ناز و نعم سے
مت پوچھ کہ اندر سے ہیں کس درجہ شکستہ
جو لوگ بظاہر نظر آتے ہیں بہم سے


اب آ کے مجھے رنج کی راحت ہوئی حاصل
پہلے میں سمجھتا تھا کہ مر جاوں گا غم سے
مجھ دل کو فقط قریۂ برباد نہ سمجھو
اک وقت یہ سر سبز علاقہ تھا قسم سے


49387 viewsghazalUrdu