میں آگ ہوں پانی ہوں نہ مٹی نہ ہوا ہوں

By farooq-noorFebruary 6, 2024
میں آگ ہوں پانی ہوں نہ مٹی نہ ہوا ہوں
حالانکہ انہیں چار عناصر سے بنا ہوں
رشتوں کی حقیقت کے بھرم ٹوٹ رہے ہیں
اک شاخ بریدہ کی طرف دیکھ رہا ہوں


مجبور ہوں میں اپنے اصولوں کی بنا پر
دنیا یہ سمجھتی ہے کہ پابند انا ہوں
محفوظ مجھے کر لیں زمانے کی نگاہیں
میں اپنے تشخص میں اکیلا ہی بچا ہوں


وہ شان ہے میری کہ ملائک کا ہوں مسجود
کہنے کو کھنکتی ہوئی مٹی سے بنا ہوں
گھر میں تو مری ایک نہیں چلتی ہے لیکن
باہر یہی مشہور ہے میں گھر کا بڑا ہوں


میں نورؔ تعارف کے لئے کچھ نہیں رکھتا
اب کیسے بتاؤں گا تمہیں کون ہوں کیا ہوں
50149 viewsghazalUrdu