میں بدن کے ابد آباد کا باشندہ ہوں
By farhat-ehsasFebruary 6, 2024
میں بدن کے ابد آباد کا باشندہ ہوں
کل جو تھا آج بھی ہوں اور وہی آئندہ ہوں
بارش موت سے کھل اٹھتی ہے مٹی میری
اسی مٹی کے کرشمے کے سبب زندہ ہوں
عشق کی آگ نے گھر پھونک رکھا ہے میرا
اور اسی خاک لگی آگ میں تابندہ ہوں
جسم در جسم جو دریائے تسلسل ہے رواں
اسی دریائے تسلسل کا نمائندہ ہوں
موت کے ہاتھ پہ بیعت ہے ذرا سی یہ حیات
اپنی بیعت سے نہ خائف ہوں نہ شرمندہ ہوں
کائنات ایک بڑے ساز کا بے انت آہنگ
میں بھی چھوٹا سا اس آہنگ کا سازندہ ہوں
ایک اک بجھتی ہوئی آنکھ کو روشن کرنا
فرحت احساسؔ میں اک خواب کا کارندہ ہوں
کل جو تھا آج بھی ہوں اور وہی آئندہ ہوں
بارش موت سے کھل اٹھتی ہے مٹی میری
اسی مٹی کے کرشمے کے سبب زندہ ہوں
عشق کی آگ نے گھر پھونک رکھا ہے میرا
اور اسی خاک لگی آگ میں تابندہ ہوں
جسم در جسم جو دریائے تسلسل ہے رواں
اسی دریائے تسلسل کا نمائندہ ہوں
موت کے ہاتھ پہ بیعت ہے ذرا سی یہ حیات
اپنی بیعت سے نہ خائف ہوں نہ شرمندہ ہوں
کائنات ایک بڑے ساز کا بے انت آہنگ
میں بھی چھوٹا سا اس آہنگ کا سازندہ ہوں
ایک اک بجھتی ہوئی آنکھ کو روشن کرنا
فرحت احساسؔ میں اک خواب کا کارندہ ہوں
97707 viewsghazal • Urdu