میں باہیں کھول کے پورا شجر نہیں بنتا

By haris-bilalFebruary 6, 2024
میں باہیں کھول کے پورا شجر نہیں بنتا
سہارا بنتا ہوں پر اس قدر نہیں بنتا
دوام پاتی ہیں سینوں سے لگ کے تصویریں
بذات خود کوئی رستہ سفر نہیں بنتا


ترا کمال کہ مجھ کو گلے لگا لیا ہے
وگرنہ خستہ دیواروں سے گھر نہیں بنتا
دیار غیر میں اجناس بانٹنے والو
جڑوں سے ٹوٹ کے پودا شجر نہیں بنتا


نظر کے فیض کا انکار تو نہیں لیکن
گہر جو ہوتا نہیں ہے گہر نہیں بنتا
ہر ایک چیز کا نعم البدل ملا حارثؔ
مگر وہ عکس جو آئینے پر نہیں بنتا


38115 viewsghazalUrdu